سورة التغابن - آیت 3

خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے اور تمہاری بہت اچھی شکلیں بنائیں اور اسی کی طرف تم نے پلٹ کر جانا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(3) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مخصوص غرض و غایت کے لئے پیدا کیا ہے، انہیں بے مقصد نہیں پیدا کیا ہے اور انسانوں کی تخلیق تو اس نے سب سے اچھی شکل و صورت میں کی ہے، انہیں نہایت ہی معتدل مزاج عطا کیا، عقل، قوت گویائی اور قوت سماع سے نوازا اور مخلوقات میں تصرف کرنے اور ان سے مستفید ہونے کی صلاحیت دی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی مفہوم کو سورۃ غافر آیت (46) میں یوں بیان فرمایا ہے : (وصورکم فاحسن صورکم ورزقکم من الطیبات) ” اور اس نے تمہاری شکل و صورت بنائی، تو تمہیں بہت ہی اچھی صورت عطا کی اور بطور روزی تمہیں عمدہ چیزیں دیں“ اور سورۃ التین آیت (4) میں فرمایا ہے : (لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم“” ہم نے انسان کو سب سے اچھی شکل و صورت میں پیدا کیا ہے“ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بہرصورت قیامت کے دن سب کو اس کے پاس لوٹ کر جانا ہے، جب وہ انہیں ان کے ایمان و کفر اور اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔