سورة الجمعة - آیت 11

وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ۚ قُلْ مَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ ۚ وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیا، انہیں بتلائیں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(11) اس آیت کریمہ کے سبب نزول کے بارے میں بخاری و مسلم وغیرہ نے جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک با نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک تجارتی قافلہ کھانے پینے کا سامان لے کر مدینہ پہنچا صحابہ کرام کو جب خبر ہوئی تو ایک ایک کر کے مسجد سے باہرجانے لگے یہاں تک کہ صرف بارہ آدمی رہ گئے، جن میں میں اور ابوبکر و عمر بھی تھے، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ابوداؤد نے ” کتاب المراسیل“ میں مقاتل بن حیان سے روایت کی ہے کہ مدنی زندگی کی ابتداء میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کی نماز، عیدین کی طرح خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے، ایک بار ایسا ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کی نماز کے بعد خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور کہا کہ دحیہ بن خلیفہ تجارتی مال لے کر آیا ہے، یہ سنتے ہی لوگ ایک ایک کر کے مسجد سے باہر چلے گئے، صرف چند افراد رہ گئے۔ قافلہ کی آمد کے بعد صحابہ کرام سے جو غلطی ہوئی، اسی پر اللہ تعالیٰ نے انہیں عتاب فرمایا کہ جب یہ لوگ کوئی تجارتی قافلہ یا سامانل ہو و لعب دیکھ لیتے ہیں، تو تیزی سے اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو منبر پر تنہا کھڑا چھوڑ دیتے ہیں، آپ انہیں بتا دیجیے کہ آپ کا خطبہ سننے اور اس سے مستفید ہونے کا جو اجر و ثواب ہے، وہ لہو و لعب اور تجارتی نفع سے زیادہ بہتر ہے۔ اور آپ انہیں یہ بھی بتا دیجئے کہ اللہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے، اس لئے انہیں اس خیر و برکت کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہئے جو اللہ کے پاس ہے اور روزی کا معاملہ اللہ کے حوالے کردینا چاہئے۔ فوائد : 1 ص فخر الدین رازی نے آیت جمعہ کا گزشتہ آیتوں سے تعلق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہود موت سے دنیا کی لذتوں سے متمتع ہونے کے لئے بھاگتے تھے اور اہل ایمان بھی خرید و فروخت حصول متاع دنیا کے لئے ہی کرتے تھے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہہ فرمائی کہ وہ جب جمعہ کی اذان سنیں تو اللہ کی یاد یعنی نماز کے لئے جلدی کریں جو متاع آخرت ہے، تاکہ یہود کی مشابہت سے بچیں۔ 2۔ یہ آیت ان حضرات کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ جو بھی جمعہ کی اذان سنے گا، اس پر نماز جمعہ واجب ہوگی اور یہ ان لوگوں کی بھی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ عورتوں پر جمعہ واجب نہیں ہے، اس لئے کہ آیت میں خطاب مردوں سے ہے۔ 3۔ (فاذا قضیت الصلاۃ فانتشروا فی الارض) سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ خطبہ جمعہ کا وقت نماز سے پہلے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے بعد زمین میں پھیل جانے کا حکم دیا ہے۔ 4۔ (وابتغوا من فضل اللہ) سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن کی تعطیل کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتی، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے بعد تلاش رزق کے لئے کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔ وباللہ التوفیق