سورة الجمعة - آیت 3

وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور ان کے لیے بھی رسول ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں اللہ غالب بڑی حکمت والا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(3) اس آیت میں ” آخرین“ آیت (2) کے کلمہ ” الامیین“ پر معطوف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان عربوں کے لئے نبی بنا کربھیجا جو عہد رسالت میں موجود تھے، اور ان عربوں کے لئے بھی جو صحابہ کرام کے بعد قیامت تک پیدا ہوں گے۔ بعض مفسرین نے (واخرین منھم) سے اہل عجم مراد لیا ہے جو اسلام میں داخل ہوئے اور قیامت تک داخل ہوتے رہیں گے اور کہا ہے کہ عجمی مسلمان اگرچہ عرب نہیں تھے، لیکن اسلام لانے کے بعد انہی میں سے ہوگئے اور ایک امت بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ آیت (17) میں فرمایا ہے : (والمومنون والمومنات بعضھم اولیاء بعض) ” مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے ولی اور دوست ہوتے ہیں“ امام احمد اور بخاری و مسلم وغیرہم نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے تھے کہ سورۃ الجمعہ نازل ہوئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب لوگوں کو پڑھ کر سنایا اور (واخرین منھم لما یلحقوابھم) تک پہنچے، تو ایک صحابی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں جو اب تک ہم سے ملے نہیں ہیں، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی کے جسم پر رکھ کر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ایمان ثریا پر بھی ہوگا تو اسے اس کی قوم کے کچھ لوگ پا لیں گے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : یہ آیت دلیل ہے کہ یہ سورت مدنی ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انسانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔