سورة الصف - آیت 10

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اے ایمان والو! میں تم کو وہ تجارت نہ بتاؤں؟ جو تمہیں عذاب الیم سے بچالے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٨) اوپر ابن عباس (رض) کی روایت گذر چکی ہے کہ کچھ مسلمانوں نے اللہ کی نظر میں سب سے اچھے عمل کو جاننا چاہا، تاکہ اسے کیں تو اس سورت کی کئی آیتیں نازل ہوئیں، جن میں سے یہ آیت بھی ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اعمال صالحہ کو اموال تجارت سے تشبیہہ دیا ہے، اس لئے کہ جس طرح تجارت سے نفع حاصل ہوتا ہے، اسی طرح اعمال صالحہ دخول جنت اور عذاب نار سے نجات کا سبب ہوتے ہیں۔ آیت (١١) میں اللہ نے اپنے ساتھ مومنوں کی مذکورہ بالا تجارت کی صراحت کردی کہ اگر وہ اللہ اور اس کے رسول پر حقیقی ایمان رکھیں گے اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ذریعہ جہاد کریں گے، تو ان کے یہ کام مآل و انجام کے اعتبار سے ان کے لئے بہت ہی نافع ہوں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف کر دے گا اور انہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور بلند و بالا مکانات عطا کرے گا جن میں وہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے اور درحقیقت ایک انسان کی یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس کا رب اس کے گناہوں کو معاف کر دے اور اسے جنت میں داخل کردے۔ اور مذکورہ نعمتوں کے علاوہ ایک اور نعت دے گا جسے وہ پسند کرتے ہیں، یعنی وہ مکہ کو فتح کریں گے اور اس کے بعد آس پاس کے دیگر شہروں اور علاقوں کو بھی فتح کریں گے اور اللہ کی نصرت و تائید انکے ساتھ ہوگی۔ صاحب محاسن التنزیل لکھتے ہیں، آیت (١٣) دلیل ہے یہ سورت فتح مکہ سے کچھ ہی دن قبل نازل ہوئی تھی اور مقصود مومنوں کو ان کے دشمنوں کے خلاف قتال پر ابھارنا، ان کی ہمت افزائی کرنی اور میدان جہاد میں ثابت قدم رہنے کی نصیحت کرنی تھی، اسی لئے آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ آپ مومنوں کو خوشخبری دے دیجیے کہ اللہ نے ان سے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔