سورة النسآء - آیت 26

يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے لیے کھول کر بیان کرے اور تمہیں پہلے لوگوں کی راہ دکھلائے اور تمہاری توبہ قبول کرے اور اللہ تعالیٰ جاننے والا، حکمت والا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

37۔ گذشتہ آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے شادی کی حلت و حرمت سے متعلق جو احکام بیان فرمائے، آیت 26، 27، 28 میں انہی کے فوائد اور حکمتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ مسلمان نفع بخش چیزوں کو اپنائیں اور نقصان دہ چیزوں کو چھور دیں، اور ان سے پہلے جو نیک لوگ گذرے ہیں ان کا طیرقہ اختیار کریں، دور جاہلیت کی گمراہی کو چھوڑ کر اسلام کی رہنمائی کو اپنا لیں، تاکہ طہارت و پاکیزگی ان کا شعار بن جائے۔ دوسری آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ مسلمان فسق و فساد کے بجائے پاکیزگی اپنائیں۔ لیکن خواہشاتِ نفس کی اتباع کرنے والے زناکار، یہود و نصاری، اور دین کی ڈگر سے ہٹ جانے والے چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی انہی کی طرح دنیاوی لذتوں اور خواہشات میں ڈوب جائیں تیسری آیت میں اللہ نے بتایا ہے کہ جو غریب مسلمان آزاد عورتوں سے شادی نہیں کرسکتے، اللہ نے حال پر رحم کرتے ہوئے لونڈیوں سے شادی کی اجازت دے دی ہے، تاکہ کہیں اپنی جنسی خواہش سے مغلوب ہو کر زنا کا ارتکاب نہ کر بیٹھیں۔