سورة المجادلة - آیت 3

وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۚ ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں۔ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کریں، یہ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(3) اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کے لئے حکم بیان کیا گیا ہے جو ظہار کرنے کے بعد فعل پر نادم ہوتے ہیں اور جماع کر کے انہیں دوبارہ اپنے لئے حلال بنانا چاہتے ہیں ان پر جماع کرنے سے پہلے واجب ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام یا لونڈی آزاد کریں اور اگر یہ میسر نہ ہو، یا اس کی قیمت زیادہ ہو تو مسلسل دو ماہ کا روزہ رکھیں اور اگر کسی بیماری کی وجہ سے اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔ امام احمد، ابو داؤد، طبرانی اور بیہقی نے یوسف بن عبداللہ بن سلام سے اور انہوں نے خولہ بنت ثعلثہ سے روایت کی ہے کہ اللہ کی قسم ! سورۃ المجادلہ کی ابتدائی آیتیں میرے اور میرے شوہر اوس بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی تھیں انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ پھر (قد سمع اللہ) سے (عذاب الیم) تک چار آیتیں نازل ہوئی تھیں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے کہا کہ میں اوس کو ایک غلام آزاد کرنے کو کہوں تو میں نے کہا، یا رسول اللہ ! وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے، تو آپ نے کہا : پھر وہ مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے، تو میں نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ تو بوڑھے ہیں، روزہ رکھنے کی ان میں کہاں طاقت ہے تو آپ نے کہا : پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو (ایک وسق کھجور) کھانا کھلائے۔ (الحدیث) آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ذلک لتؤمنو با للہ و رسولہ) یعنی ظہار کا حکم اس لئے بیان کیا گیا ہے تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کے حکم پر عمل کرو اس لئے کہ ایمان اعتقاد قول اور عمل تینوں کے مجموعہ کا نام ہے۔