سورة الحديد - آیت 11

مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کون ہے جو ” اللہ“ کو قرض حسنہ دے؟ تاکہ اللہ اس کے لیے اسے کئی گنا بڑھائے اور اس کے لیے بہترین اجر ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١١) مفسر ابوالسعود لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا، پھر ان لوگوں کی زجر و توبیخ کی جو بخل کی وجہ سے اس کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، پھر اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے درجات بتائے اور اب اس آیت میں ایک مخصوص انداز میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی رغبت دلائی جا رہی ہے کہ جو شخص اس کی راہ میں خرچ کرے گا گویا کہ وہ اسے قرض دے گا، جس کا معاوضہ اسے بہرحال ملنا ہے۔ آیت میں ” قرض حسن“ سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ خرچ کرنے والے کی نیت اچھی ہو، اللہ کی راہ میں سب سے عمدہ مال خرچ کرے اور کوشش کے کہ سب سے اچھی جگہ خرچ کرے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آیت سے مقصود جہاد کے لئے خرچ کرنا ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مقصود بال بچوں پر خرچ کرنا ہے۔ ابن کثیر کہتے ہیں : صحیح بات یہ ہے کہ آیت کا مفہوم عام ہے، یعنی ہر کار خیر میں خرچ کرنا مقصود ہے۔ آیت کے دوسرے حصہ کا مفہوم یہ ہے کہ جو اللہ کی راہ میں اپنا بہترین مال خلوص نیت کے ساتھ خرچ کرے گا، اللہ اسے ایک کے بدلے کئی گنا دے گا اور بہت عمدہ بدلہ دے گا، یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے اسے جو جزا ملے گی وہ مقدار میں کئی گنا زیادہ اور عمدہ ہوگی۔