سورة الواقعة - آیت 88

فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٧) آیت (٧) او مابعد کی آیتوں کی تقسیم میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ اعمال کے اعتبار سے تین جماعتوں میں بٹ جائیں گے : سابقین اولین، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال اور ان آیتوں میں تینوں جماعتوں کا انجام بھی بیان کیا گیا ہے۔ انہی تینوں جماعتوں کا وہی مذکور بالا انجام اللہ تعالیٰ نے یہاں مزید تاکید اور ترغیب و ترہیب کے طور پر بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر مرنے والا آدمی اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا کی تکلیفوں اور مصیبتوں سے ہمیشہ کے لئے آرام دے دے گا، اس پر اپنی رحمتیں نازل کرے گا، اور اس کے قلب و روح کو سکون و راحت پہنچائے گا اور جنت میں اسے نہایت لذیذ روزی عطا کرے گا اور اس جنت نعیم میں داخل کرے گا جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے، اور نہ کسی انسان کے دل نے اس کا تصور کیا ہے۔ اور اگر وہ اصحاب الیمین میں سے ہوگا، تو فرشتے اسے سلام کریں گے اور خوشخبری دیں گے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جنہیں قیامت کے دن عرش کے دائیں جانب جگہ ملے گی اور بالآخر ان کا مقام جنت ہوگا۔ اور اگر وہ اصحاب الشمال میں سے ہوگا، یعنی ان لوگوں میں سے جو دنیا میں روز قیامت کی تکذیب کرتے تھے اور راہ حق سے بھٹکے ہوئے تھے تو اس کی میزبانی (زقوم سے پیٹ بھرنے کے بعد) کھولتے ہوئے پانی سے ہوگی جو اس کے شکم کی ہر چیز کو پگھلا کر باہر نکال دے گا اور اسے جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا۔ آیت (٩٥) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تینوں جماعتوں کا جو انجام بین کیا گیا ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے، حافظ سیوطی نے اپنی کتاب ” الاکلیل“ میں انہی آیات سے استدلال کر کے لکھا ہے کہ ابن آدم کی روح جسم سے جدا ہونے کے بعد، یا تو سکون و راحت میں ہوتی ہے، یا اسے عذاب دیا جاتا ہے اور یہ کہ مومن روحوں کا ٹھکانا جنت اور کافرروحوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ سورت کے اختتام میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کرتے رہیں، اس کی حمد و ثنا میں مشغول رہیں، اور مشرکوں کی افترا پردازیوں کی تردید کرتے رہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ” الصحیح“ کے آخر میں ابوہریرہ ری اللہ عنہ سے روایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر تو ہلکے ہیں، لیکن قیامت کے دن میزان عمل میں وہ بڑے بھاری ہوں گے اور رحمٰن کو وہ بڑے پیارے ہیں :” سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم“ ” اللہ متام عیوب و نقائص سے پاک ہے اور ساری تعریفیں اسی کے لئے ہیں، عظمتوں والا اللہ تمام عیوب سے پاک ہے۔“ وباللہ التوفیق