سورة الواقعة - آیت 80

تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٥) اس آیت کا تعلق آیت (٧٧) سے ہے، بایں طور کہ یہ قرآن کریم کی دوسری صفت ہے، آیت (٧٧) میں اس کی پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ معزز و مکرم کتاب ہے اور یہاں دوسری صفت یہ بیان کی گئی کہ وہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ آیت (٨١) میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بارے میں فرمایا کہ لوگو ! کیا تم ایسی معزز و مکرم کتاب اور رب العالمین کی بات کو جھٹلاتے ہو اور اس کی تصدیق نہیں کرتے ہو۔ عوفی نے ابن عباس (رض) سے ” مدھنون“ کی تفسیر ” مکذبون غیر مصدقین“ نقل کی ہے۔ عربی زبان میں ” ادھان“ کا معنی تکذیب، کفر اور نفاق بیان کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے بھی آیت کا معنی یہ ہوگا کہ لوگو ! کیا تم منافقین کی باتوں میں آ کر اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہو، اور اس کا انکار کرتے ہو؟! حالانکہ یہ عظیم کتاب تم سے تقاضا کرتی ہے کہ تم اس پر ایمان لے آؤ اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں جاری و ساری کرلو۔ آیت (٨٢) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے فرمایا کہ اس نے تمہیں روزی دی ہے اور گوناگوں نعمتوں سے نوازا ہے، اس کا تقاضا تھا کہ تم اس کا شکر ادا کرتے، لیکن تم نے ناشکری کی، ان نعمتوں کی نسبت اس کے سوا دوسروں کی طرف کردی اور احسان و انعام کا بدلہ کفر و شرک کے ذریعہ دیا اس سے بڑھ کر احسان فراموشی کیا ہو سکتی ہے کہ جو احسان کرے اس کے ساتھ بدسلوکی اور ایذا رسانی کا برتاؤ کیا جائے۔