سورة الواقعة - آیت 71

أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کبھی تم نے غور کیا کہ جو آگ تم سلگاتے ہو

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٢) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وہ آگ جسے تم ہرے درخت پر چقماق یا پتھر رگڑ کر روشن کرتے ہو، اس آگ والے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم نے ؟ جواب ظاہر ہے کہ اسے ہم نے پیدا کیا ہے۔ عربوں کے نزدیک ” مرخ و غفار“ نام کے درخت مشہور ہیں، جن میں ایک کی ہری ڈالی کو دوسرے کی ہری ڈالی سے رگڑنے سے آگ پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب تمہیں اس کا اعتراف ہے کہ ہرے درخت سے آگ نکالنے پر اللہ کی ذات قادر رہے تو پھر اس بات کو کیں نہیں مانتے کہ انسانی جسم کے ٹوٹ پھوٹ جانے اور مٹی میں مل جانے کے بعد، وہ قادر مطلق اسے دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ آیت (٧٣) (نحن جعلنا ھاتذکرۃ) کا دوسرا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ہرے درخت سے آگ نکال کر لوگوں کو یہ باور کرانا چاہا ہے کہ ہم نے جہنم کی آگ بھی پیدا کی ہے، جسے یاد کر کے انہیں اس سے نجات کی فکر کرنی چاہئے۔ بخاری و مسلم اور امام احمد نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جہنم کی تپش دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ گرم ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھ پر اور اس تفسیر کے تمام قارئین پر جہنم کی آگ کو حرام کر دے۔ (ومتاعا للمقوین) کا مفہوم یہ ہے کہ آگ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے مختلف الانواع فائدے رکھے ہیں، جو لوگ صحراء میں سفر کرتے ہیں وہ بالخصوص اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ کھانا پکاتے ہیں اور تمام ہی انسان اس سے اپن مختلف ضرورتیں پوری کرتے ہیں اگر آگ نہ ہوتی تو آدمی کو کچی چیزیں کھانی پڑتی اور ان صنعتوں اور ایجادات کے دروازے نہیں کھلتے جن میں خام مادوں کو آگ سے ہی پگھلا کر مشینیں، اسلحے محیر القعول آلات بنائے جاتے ہیں۔ مذکورہ بالا نعمتوں کا ذکر کئے جانے کے بعد، آیت (٧٤) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور ان کے واسطے سے عام مومنوں کو رب العالمین کی پاکی بیان کرنے کا حکم دیا، جس کی ذات عظیم ہے اور جس کے احسانات بے شمار ہیں۔