سورة الواقعة - آیت 57

نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر کیوں تصدیق نہیں کرتے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٨) اہل قریش بعث بعد الموت کی تکذیب کرتے تھے اور کہتے تھے، یہ ناممکن ہے کہ جب ہم گل سڑکر مٹی ہوجائیں گے اور صرف ہماری ہڈیاں رہ جائیں گی تو دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ملحدانہ شبہ کی تردید کے لئے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ ہم نے تمہیں اس وقت پیدا کیا جب تم کچھ بھی نہیں تھے، تو جو ذات تمہیں پہلی بار پیدا کرنے پر قادر تھی، کیا تمہیں دوبارہ پیدا نہیں کرسکے گی؟ دوبارہپیدا کرنا تو زیادہ آسان ہے تمہاری عقل میں یہ بات کیوں نہیں آتی ہے؟ آیت (٥٨) میں ان کے شبہ کی مزید تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اپنی بیویں سے مباشرت کے ذریعہ منی کے جس قطرے کو ان کے رحم تک پہنچاتے ہو، نو ماہ اور کچھ دنوں میں تخلیق کے مراحل سے گذار کر، کون اسے ایک زندہ انسان بنا کر ماں کے پیٹ سے باہر نکالتا ہے؟ یقیناً وہ اللہ کی ذات ہے جس نے زن و شو میں شہوت پیدا کی، ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے کشش ڈالی اور مجامعت و مباشرت کی طرف ان کی رہنمائی کی اور منی کے قطرے کی رحم مادر میں پرورش کی، اسے گوشت پوست اور ہڈی کا ڈھانچہ دیا اسے دھڑکتا دل دیا، اس کے لئے آنکھ، کان اور ناک بنایا اور وہاں جب اس کا نمو مکمل ہوا تو رحم مادر کو حکم دیا کہ اسے دھکا دے کر باہر نکالے تو جو باری تعالیٰ اس پر قادر ہے وہ یقیناً اس انسان کو دوبارہپیدا کرنے پر قادر ہے۔