سورة النجم - آیت 43

وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور وہی ہنسانے والا اور وہی رلانے والا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٣) صحائف موسیٰ و ابراہیم میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ رب العالمین کی ذات ہے جس نے انسان میں ” ہنسنے اور رونے“ کی قوت ودیعت کی ہے یا آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی اہل جنت کو جنت میں بھیج کر ہنسایا اور اہل جہنم کو جہنم میں ڈال کر رلایا، یا اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے دنیا میں جسے چاہا خوشی دے کر ہنسایا اور جسے چاہا غم دے کر رونے پر مجبور کیا۔ اور باری تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے جسے چاہا موت کے گھاٹ اتار دیا اور جسے چاہا مردہ نطفہ میں زندگی ڈال کر پیدا کیا اور اسی نے مرد و زن کو ایک قطرہ نطفہ سے پیدا کیا جو دتا ہوا رحم مادر میں جا کر قرار پا جاتا ہے۔