سورة النجم - آیت 13

وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور ایک مرتبہ پھر اس نے اس کو دیکھا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٧) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل (علیہ السلام) کو دوسری شب معراج میں ساتویں آسمان پر دیکھا تھا بعض لوگوں نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کو اپنے دل کی آنکھوں سے دوسری بار شب معراج میں دیکھا تھا، لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک پہلا قول ہی راجح ہے اور اس کی تائید ابو ذر (رض) کی اس حدیث سے ہوتی ہے جسے مسلم نے روایت کی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا، کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟ تو آپ نے فرمایا :” ایک نورت ھا، اللہ کو کیسے دیکھ سکتا تھا“ مشہور تابعی مسروق سے عائشہ (رض) نے کہا کہ جو شخص تم سے کہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کو دیکھا تھا، اس نے اللہ پر بہت بڑی افترا پردازی کی، انہوں نے جبریلک و دیکھا تھا، ان کی اصلی صورت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں صرف دوبارہ دیکھا تھا دوسری بار سدرۃ المنتہی کے پاس اور پہلی بار ” اجیادمکہ“ میں جب انہوں نے چھ سو پروں کے ساتھ افق کو ڈھانک رکھا تھا۔ (ترمذی تفسیر سورۃ نجم) البتہ اتنی بات ثابت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا تھا، امام احمد نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” میرا رب میرے پاس آج کی رات سب سے اچھی صورت میں آیا“ الحدیث اور یہ خواب آپ نیح مدینہ میں دیکھات ھا۔