سورة النجم - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

سورۃ النجم مکی ہے، اس میں باسٹھ آیتیں اور تین رکوع ہیں تفسیر سورۃ النجم نام : اس سورت کا پہلا لفظ ” النجم“ ہے، یہی اس کا نام رکھ دیا گیا ہے۔ زمانہ نزول : جمہور علمائے تفسیر کے نزدیک پوری سورت مکی ہے، ابن مردویہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ سورۃ النجم مکہ میں نازل ہوئی تھی، بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ پہلی سورت جس میں ” سجدہ“ نازل ہوا تھا، سورۃ النجم ہے، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ کیا اور تمامم لوگوں نے سجدہ کیا، صرف ایک آدمی کو میں نے دیکھا کہ اس نے ایک مٹھی مٹی لے کر اس پر سجدہ کرلیا تو میں نے اس کے بعد دیکھا کہ وہ شخص حالت کفر میں قتل کردیا گیا وہ شخص امیہ بن خلف تھا بعض روایتوں میں اس کا نام عتبہ بن ربیعہ بتایا گیا ہے۔ بعض محدثین (مثلاً اسود بن یزید، ابواسحاق اور زہیر بن معاویہ) نے عبداللہ بن مسعود (رض) کی مذکور بالا روایت میں، اس بات کی صاحت کردی ہے کہ سورۃ النجم پہلی سورت ہے جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار قریش کے مجمع عام کے سامنے پڑھی تھی، اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آخر میں سجدہ کیا تو کفار بھی سجدہ میں چلے گئے صرف ایک شخص نے سجدہ نہیں کیا جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔