سورة الطور - آیت 41

أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ یہ اسے لکھ لیتے ہیں؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٢) کیا مشرکین مکہ کے پاس غیب کی خبریں آتی ہیں، جنہیں وہ لکھ لیتے ہیں اور اس طرح انہیں وہ باتیں معلوم ہوجاتی ہیں جن کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر نہیں ہوتی ہے اور جن کی بنیاد پر وہ آپ کی مخالفت کرتے ہیں؟ ایسی کوئی بات نہیں ہے، وہ تو نرے ان پڑھ اور گمراہ لوگ ہیں، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس غیب کی ایسی خبریں آتی ہیں جو ان کے سوا کسی مخلوق کے پاس نہیں آتی ہے۔ اس لئے ان کا دعویٰ باطل ہے، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم برحق اور صادق ہے۔