سورة الذاريات - آیت 47

وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور ہم اس کو وسعت دینے والے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(19) مندرجہ ذیل آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے مظاہر بیان کر کے گویا یہ کہنا چاہا ہے کہ جو ایسی عظیم ترین قدرت کا مالک ہے، بے شک وہی ہر چیز کا رب اور اپنے تمام بندوں کا معبود واحد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آسمان کو اپنی قدرت سے بنایا ہے اسے اونچا بنایا ہے اور شمس و قمر اور ان گنت ستاروں سے اسے مزین کیا ہے اور ہم ہر چیز کو جتنا پھیلانا چاہیں اسے پھیلانے کی قدرت رکھتے ہیں اور ہم نے زمین کو فرش کی طرح پھیلا دیا ہے، تاکہ بندے اس سے مستفید ہو سکیں، ہم ہی اسے اچھی طرح پھیلانے والے ہیں، یعنی ہمارے سوا کوئی اس کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔ آیت (٩٤) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ہر چیز کو جوڑا پیدا کیا ہے، کوئی چیز اس دنیا میں فرد نہیں ہے، آسمان و زمین، لیل و نہار، شمس و قمر، بحر و بر، ظلمت و روشنی ایمان و کفر، موت و حیات، نیک بختی و بدبختی، جنت و جہنم، حتی کہ حیوانات و نباتات سبھی جوڑے ہیں، صرف اللہ کی ذات وحدہ لاشریک ہے اور انسان و جن اور حیوانات و بہائم میں مذکر و مؤنث ہونا اور ان کی نسلوں کی بقاء کے لئے بظاہر بے جان نطفہ میں جان ڈالنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اللہ قادر مطلق مردوں کو دوبارہ زندہ کیر گا اسی لئے آیت کے آخر میں (لعلکم تذکرون) آیا ہے یعنی تاکہ تم لوگ غور و فکر کے اس نتیجہ پر پہنچ سکو کہ تمہاری عبادت کا مستحق صرف رب ذوالجلا ہے جس نے ہر چیز کو جوڑا پیدا کیا ہے، یعنی یا تو انہیں مذکر و مؤنث بنایا ہے، یا ایک دوسرے کا مخالف بنایا ہے، جیسے آگ پانی کا، موت زندگی کا ایمان کفر کا اور جنت جہنم کی مخالف ہے۔