سورة ق - آیت 29

مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢١) ابلیس نے آدم و حوا کو وسوسہ میں ڈال کر جب جنت سے نکلوا دیا تھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے کہا تھا : (لاملان جھنم من الجنۃ و الناس اجمعین) ” میں جہنم کو یقیناً جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا۔“ (ہود : ١١٩) اسی فیصلہ کی طرف اشارہ ہے کہ میں نے کافروں اور رسولوں کی نافرمانی کرنے والوں کے بارے میں جو فیصلہ کردیا ہے، وہ ہرگز نہیں بدلے گا اور نہ ہی میں اپنے بندوں پر ظلم کروں گا کہمطیع و فرمانبردار کو عذاب دوں، یا کافر و نافرمان کو جنت میں داخل کر دوں۔ مفسر قاشانی نے (وما انا بظلام اللعبید) کی تفسیر یہ کی ہے کہ ” میں نے بندوں کو قبول حق کی استعدادی دی، انہیں خیر و شر سے آگاہ کیا اور راہ حق کی طرف ان کی رہنمائی کردی، اس لئے میں نہیں، بلکہ وہ خود ہی اپنے حق میں ظشالم ہیں کہ روشنی اور نور کو چھوڑ کر ظلمت و تاریکی کو اختیار کرتے ہیں، اور دائمی نعمت یعنی جنت کو نظر ادناز کر کے فانی یعنی دنیاوی لذتوں اور شہوتوں کے پیچھے دوڑتے ہیں۔