سورة ق - آیت 1

ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

قٓ، قسم ہے قرآن مجید کی

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) ق حرف مقطع ہے، جس کے حقیقی معنی و مفہوم کا علم اللہ کو ہی ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن) کی قسم کھائی ہے، جو بہت ہی بلند و بالا مرتبہ والی کتاب ہے اور اس قسم کا جواب محذوف ہے، بعض مفسرین نے اس کی تقدیر ” ان محمد الرسول امین“ مانا ہے، عینی عالی مقام قرآن کی قسم ہے کہ محمد اللہ کے امانت دار رسول ہیں، بعض نے اس کی تقدیر ” انزلناہ الیک لتنذربہ الناس“ مانا ہے، یعنی بلند مقام قرآن کی قسم ہے ہم نے اس قرآن کو آپ پر اس لئے نازل کیا ہے تاکہ آپ اسے پڑھ کر لوگوں کو عذاب سے ڈرائیں۔ لیکن مشرکین مکہ نے محمد کے رسول ہونے میں شبہ کیا، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے ان کی بعثت کو ایک امر عجیب قراردیا اور کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہمارے ہی درمیان کا ایک فرد رسول بنا کر ہمیں اللہ سے ڈرانے کے لئے بھیج دیا جائے۔ (فقال الکافرون ھذاشی عجیب) میں گزشتہ بات کی ہی مزید صراحت کردی گئی ہے، یعنی اس سے زیادہ حیرت انگیز بات نہیں ہو سکتی کہ محمد کو نبی بنا دیا جائے جو ہمارے ہی جیسا آدمی ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ” ھذا“ سے اشارہ ” معبود واحد کی پرستش کی دعوت“ کی طرف ہے، یعنی یہ عجیب بات ہے کہ ہمیں تمام معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود کی عبادت کی دعوت دی جا رہی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کافروں کو (بعث بعد الموت) کی بات پر تعجب تھا، ایسی صورت میں ” ھذا“ کی تفسیر بعد والی آیت (أاذا متناوکنا تراباً) سے ہوتی ہے، یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جانا بڑی عجیب سی ہے۔