سورة الزخرف - آیت 80

أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُم ۚ بَلَىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں نہیں سنتے؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(35) کفار مکہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے دلوں کے بھیدوں اور پوشیدہ جگہوں میں اسلام اور رسول اللہ کے خلاف ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے ہیں، یہ ان کی خام خیالی اور نادانی ہے، ہم ان کے دلوں کے بھیدوں کو جانتے ہیں اور ان کی سرگوشیوں کو سنتے ہیں، یہ ان کے خام خیالی اور نادانی ہے، ہم ان کے دلوں کے بھیدوں کو جانتے ہیں اور ان کی سرگوشیوں کو سنتے ہیں، اور ہمارے فرشتے ان کے تمام اقوال و افعال لکھ لیتے ہیں۔