سورة الزخرف - آیت 79

أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا ان لوگوں نے کوئی اقدام کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر ہم بھی ایک فیصلہ کیے دیتے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(34) اہل جہنم کی تکلیفوں کے بیان سے یکبارگی کلام کا رخ کفار قریش اور ان کی ان سازشوں کی طرف پھیر دیا گیا ہے جو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کرتے تھے، اس میں اشارہ ہے کہ ان کے یہی جرائم انہیں جہنم تک پہنچا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کافروں نے میرے نبی اور ان کی دعوت کے خلاف زبردست سازش کر رکھی ہے، تو ہم نے بھی طے کرلیا ہے کہ ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے اور انہیں عذاب میں مبتلا کریں گے۔ سورۃ الطور آیت (٢٤) میں یہ بات یوں کہی گئی ہے۔ (ام یریدون کید افالذین کفروا اھم المکیدون) ” کیا کفار مکہ کوئی سازش کرنی چاہئے ہیں، تو جان لیں کہ درحقیقت انہی کے خلاف تدبیر ہو رہی ہے۔ “