سورة الشورى - آیت 36

فَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے وہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(24) اللہ تعالیٰ نے دنیائے دنی اور اس کی نعمتوں کی بے ثباتی اور جنت کے دوام و بقا کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ جنت ان کو ملے گی جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں، صرف اسی پر بھروسہ کرتے ہیں بڑے گناہ جیسے شرک، قتل، ظلم، شراب نوشی، اکل حرام اور زنا ولواطت وغیرہ سے بچتے ہیں، جب انہیں کسی پر غصہ آتا ہے، تو اس کی غلطی کو معاف کر دیت یہیں، جب ان کا رب انہیں اپنی طاعت و بندگی کا حکم دیتا ہے تو فوراً سر تسلیم خم کردیتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں، یعنی پورے خشوع و خضوع کے ساتھ تمام شروط و ارکان اور واجبات و سنن کی رعایت کرتے ہوئے نماز ادا کرتے ہیں اور جب کوئی اہم معاملہ پیش آتا ہے تو آپس میں مشورہ کرنے بعد ہی قدم اٹھاتے ہیں، اللہ انہیں جو روزی دیتا ہے اس کا کچھ حصہ اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور جب کوئی باغی و طاغی کا فران پر چڑھ دوڑتا ہے تو اپنی عزت نفس کی خاطر اٹ کھڑے ہوتے ہیں اور ظلم وتعدی کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں، اس لئے کہ مومن کی عزت نفس اور غیرت و خودی کا یہی تقاضا ہے اور اس لئے بھی کہ ظالم کو ظلم سے روک دینا اور اسے قبول حق پر مجبور کردینا اللہ کے نزدیک قابل ستائش صفت ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اللہ کے جو نیک بندے مذکورہ بالا دسوں صفات کے ساتھ متصف ہوں گے، وہ اللہ کے فضل و کرم سے دنیا کی حلال نعمتوں سے بھی محرم نہیں ہوں گے، لیکن چونکہ جنت کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں، اسی لئے صرف جنت اور اس کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔