سورة الشورى - آیت 27

وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اگر اللہ اپنے بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کرتے مگر وہ جتنا چاہتا ہے حساب کے مطابق نازل کرتا ہے، یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے۔ اور ان کو دیکھنے والا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(20) اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور علم و حکمت کے مظاہر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر وہ اپنے تمام بندوں کی روزی میں خوب وسعت و کشادگی دے دیتا، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ زمین میں سرکشی کرنے لگتے اور کبر و غرور میں مبتلا ہوجاتے اور اللہ سے وہ کچھ مانگنے لگتے جس کا انہیں حق نہیں پہنچتا، اسی لئے وہ انہیں اتنی ہی روزی دیتا ہے جو اس کی مشیت و حکمت کے مطابق ہوتی ہے، وہ اپنے بندوں کے احوال و ضروریات سے خوب واقف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی قدرت و حکمت کے ملے جلے تقاضے کے مطابق باران رحمت کو روک لیتا ہے، یہاں تک کہ زمین خشک ہوجاتی ہے، قحط سالی سے انسان اور چوپائے بدحال ہونے لگتے ہیں، حتی کہ بارش سے بالکل ناامید ہوجاتے ہیں اور اللہ کی مشیت کے سامنے اپنے آپ کو بالکل بے دست و پا سمجھنے لگتے ہیں اور مشرکین کے جھوٹے معبودوں کی عاجزی اور بے بسی بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اگر معبود ہیں اور کسی قسم کی قدرت رکھتے ہیں تو پھر اپنی پوجا کرنے والوں کی مدد کے لئے آگے کیوں نہیں بڑھتے ہیں اور آسمان سے بارش کیوں نہیں نازل کرتے ہیں، تب اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور باران رحمت کے ذریعہ بندوں کی نا امیدی و پریشانی کو دور کردیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کے مظاہر میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو عجیب و غریب ہئیت و کیفیت میں پیدا کیا ہے اور چوپائے پیدا کئے ہیں جو زمین پر چلتے رہتے ہیں اور فرشتے پیدا کئے ہیں جو فضائے آسمانی میں تیرتے رہتے ہیں اور اس کے مظاہر قدرت میں سے یہ بھی ہے کہ وہ ہر ذی روح کو موت کے گھاٹ اتار دے گا اور تمام کے تمام مٹی میں گل سڑ جائیں گے اور جب قیامت آئے گی تو اسرافیل (علیہ السلام) کے ایک صور کے ذریعہ تمام کو زندہ کر کے اپنے سامنے لاکھڑا کرے گا۔