سورة فصلت - آیت 36

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور اگر شیطان کی طرف سے آپ کوئی اُکساہٹ محسوس کریں تو اللہ کی پناہ مانگیں، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٤) اوپر کی آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو نصیحت کی گئی ہے اسی کا تتمہ ہے، کہ اگر شیطان آپ کے دل میں وسوسہ پیدا کرے، اور برائی کا جواب برائی سے دینے پر آمادہ کرے اور مخالف سے انتقام لینے کو کہے، تو اللہ کی جناب میں پناہ لیجیے، اسی سے مدد مانگئے اور نفس کی برائی سے بچانے کی التجا کیجیے۔ اسی مفہوم کو سورۃ الاعراف آیات (١٩٩/٢٠٠) میں یوں بیان کیا گیا ہے : (خذا العفووا مربا لعرف و اعرض عن الجاھلین، واماینزغنک من الشیطان نزع فاستعذ باللہ انہ سمیع علیم) ” آپ در گذر کرنا اختیار کیجیے، نیک کام کی تعلیم دیجیے اور نادانوں سے کنارہ کش ہوجایئے اور اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجیے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے“ اور سورۃ المؤمنون آیات (٩٦، ٩٧، ٩٨) میں آیا ہے : (ادفع بالتی ھی احسن السیءۃ نحن اعلم بما یصفون، وقل رب اعوذبک من ھمزات الشیاطین، واعوذ بک رب ان یخضرون) ” آپ برائی کو سب سے بہتر اچھائی کے ذریعہ دور کیجیے جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں ہم بخوبی واقف ہیں اور دعا کیجیے کہ اے میرے رب ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیاطین کی چھیڑ سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ وہ میرے پاس آجائیں۔ “