سورة فصلت - آیت 19

وَيَوْمَ يُحْشَرُ أَعْدَاءُ اللَّهِ إِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوزَعُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جس دن اللہ کے دشمن جہنم کی طرف لے جانے کے لیے گھیر لیے جائیں گے، انہیں ان سے پیچھے آنے والوں کے لیے روک لیا جائے گا

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٤) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا ہے کہ آپ اہل قریش کو وہ احوال و کوائف بتائیں جن سے کفار قیامت کے دن دوچار ہوں گے، شاید کہ عبرت حاصل کریں، جب اللہ کے تمام دشمنان جہنم یا میدان محشر کی طرف ہانک کرلے جائیں گے اور سب ایک جگہ اکٹھا کئے جائیں گے۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جہنمیوں کی تعداد بہت بڑی ہوگی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے جرائم کی گواہی دیں گے، جس اللہ نے ان کی زبانوں کو دنیا میں قوت گویائی دی تھی، وہی اس دن ان کے جسموں کے دیگر اعضاء کو قوت گویائی دے گا اور وہ ان مجرمین کا ایک جرم بیان کریں گے اور جس کفر و شرک کا اعتراف کرنے سے ان کی زبانیں خاموش تھیں، ان کی گواہی دیں گے۔