سورة فصلت - آیت 9

قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اے نبی ان سے کہو کیا تم اس اللہ کا انکار کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنایا، وہی تو پوری کائنات کا رب ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٧) مشرکین قریش کا کفر و شرک اور تکذیب قرآن کریم پر اصرار بڑھتا ہی گیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی انہیں اجر و توبیخ کے طور پر فرمایا کہ کیا تم اس ذات باری تعالیٰ کی الوہیت کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں کی مدت میں پیدا کیا ہے اور اس کے لئے شرکاء ٹھہراتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو، حالانکہ وہ رب العالمین ہے، اس لئے اس کے سوا کوئی دوسرا کیسے عبادت کا مستحق ہوسکتا ہے۔ اور کیا تم اس ذات واحد کی الوہیت کا انکار کرتے ہو، جس نے زمین کے اوپر بڑے بڑے پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ دیئے ہیں اور جس نے زمین میں بنی نوع انسان کے لئے نوع بہ نوع نعمتیں پیدا کی ہیں اور اس کی سطح پر نہریں جاری کیں، درخت اگائے اور چوپائے پیدا کئے اور ہر ملک کے رہنے والوں کو ان کے مزاج کے مطابق روزی دی ہے۔ یہ نوع بہ نوع نعمتیں اور روزی کی کثرت اللہ تعالیٰ کی برکت کا ہی نتیجہ ہے۔ یہ سارے کام اللہ تعالیٰ نے چار دن کی مدت میں کئے ہیں اتوار اور سوموار دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا اور منگل اور بدھ دو دنوں میں مذکورہ بالا باقی کام کیا۔