سورة غافر - آیت 69

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ أَنَّىٰ يُصْرَفُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں کہ کہاں سے وہ بھٹکاۓ جا رہے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٩) یہاں سے ان مشرکین کے حالات پر روشنی ڈالی جا رہی ہے جو اپنے جھوٹے اور باطل دلائل کے ذریعہ قرآن کریم کی آیات کی تردید کرتے تھے اور ان میں شکوک و شبہات پیدا کرتے تھے، اس جرم عظیم کی ایک فوری سزا انہیں یہ دی گئی کہ ظاہر و صریح دلائل کے باوجود قول حق کی توفیق ان سے چھین لی گئی، اور قیامت کے دن ان کی گردنوں میں آگ کا طوق اور ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی جائیں گی اور انہیں شدید ترین کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا اور ان کے جسموں میں آگ لگا دی جائے گی جیسے لکڑی میں آگ لگا دی جاتی ہے اور پھر ان سے اجر و توبیخ کے طور پر کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ شرکاء جن کی تم اللہ کے بجائے عبادت کرتے تھے؟ تو وہ جاب دیں گے کہ وہ تو آج ہم سے غائب ہوگئے ہیں، کہیں بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ ایک دوسرا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ تو ہمارے کسی کام کے نہیں رہے، ان سے ہماری مصیبتوں کا کوئی مداوا نہیں ہوسکا۔ پھر شدت حیرت و اضطراب میں اپنا عقلی توازن کھو بیٹھیں گے اور کہنے لگیں گے کہ ہم نے تو دنیا میں کسی کی عبادت نہیں کی تھی۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اہل کفر کو اسی طرح اپنے آپ سے اور اپنی رحمت سے دور کردیتا ہے اور ایمان و یقین کے لئے مہلک بیماری شرک میں مبتلا کردیتا ہے جو اسے جہنم رسید کردیتا ہے۔