سورة غافر - آیت 51

إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد دنیا کی زندگی میں بھی کرتے ہیں اور آخرت میں بھی کریں گے جب گواہ کھڑے کیے جائیں گے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٧) اللہ تعالیٰ کی اپنے انبیائے کرام کے بارے میں یہ سنت رہی ہے کہ وہ ان کی اور ان کے ماننے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ضرور مدد کرتا ہے، ان کے دین کو غالب کرتا ہے اور ان کے مخالفین کو قتل، قید و بند اور دیگر عذاب دنیا سے دوچار کرتا ہے اور اس کا وعدہ ہے کہ قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال صالحہ کا اچھا بدلہ دے گا، یعنی جنت میں داخل کرے گا اور گوناگوں انعام و اکرام سے نوازے گا اور ان کے مخالفین کو اپنی رحمت سے دور کر دے گا اور انہیں جہنم میں ڈال دے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جب ظالم مشرکوں کی کوئی معذرت ان کے کام نہیں آئے گی۔ ابن جریر لکھتے ہیں کہ اس دن اہل شرک کو ان کی معذرت کام نہیں دے گی، اس لئے کہ ان کے پاس عذر لنگ کے سوا کچھ بھی نہ ہوگا، دنیا میں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خوب موقع دیا تھا، ان کے سامنے دلیل و حجت کا انبار لگا دیا تھا، اس لئے آخرت میں ان کے پاس سوائے کذب بیانی کے کچھ بھی نہ ہوگا جیسے کہیں گے : (واللہ ربنا ماکنا مشرکین) ” ہم اپنے رب کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم شرک نہیں کرتے تھے۔“ چنانچہ وہاں ان کے لئے اللہ کی رحمت سے دوری اور بدترین عذاب کے سوا کچھ بھی نہ ہوگا۔