سورة الزمر - آیت 24

أَفَمَن يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَقِيلَ لِلظَّالِمِينَ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس شخص کا کیا اندازہ کرسکتے ہو جو قیامت کے دن اپنا چہرہ عذاب سے بچانے کی کوشش کرے گا ایسے ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب اس کمائی کا مزہ چکھو جو تم کرتے رہے ہو

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٨) سخت دل کفار و مشرکین کا دنیا میں یہ حال بیان کیا گیا کہ وہ ضلالت کی وادیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں اور آخرت میں ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے ہاتھ پیٹھ کی طرف یا گردن کے ساتھ باندھ دیئے جائیں گے اور اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کی شقاوت و بدنصیبی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا وہ لوگ ان کے مانند ہو سکتے ہیں جو جنت کے باغوں میں پرامن زندگی گذار رہے ہوں گے؟ عطاء اور ابن زید کہتے ہیں کہ جہنمی کے دونوں ہاتھ اس کی پیٹھ کی طرف باندھ کر چہرہ کے بل آگ میں ڈال دیا جائے گا اور مجاہد کہتے ہیں کہ اسے چہرہ کے بل جہنم میں گھسیٹا جائے گا اور ظالم جہنمیوں سے زجر و توبیخ کے طور پر کہا جائے گا کہ اپنے کرتوتوں کا مزا چکھتے رہو۔ آیات (٢٥/٢٦) میں اللہ تعالیٰ نے کفار قریش کی عبرت و موعظت کے لئے فرمایا کہ ان سے پہلی قوموں نے بھی اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اللہ نے انہیں دنیا میں ذلیل و رسوا کیا، کسی کو زمین میں دھنسا دیا، کسی کی صورت مسخ کردی اور کسی پر پتھروں کی بارش برسا دی اور کسی کو قید و بند میں مبتلا کیا اور آخرت کا عذاب تو دنیا کے عذاب سے کہیں سخت ہوگا، جس سے بہر حال انہیں دوچار ہونا ہی پڑے گا۔ کاش کفار اس بات کا یقین کرلیتے، رسولوں کی تکذیب نہ کرتے اور اپنے خالق و مالک پر ایمان لے آتے تو ہلاکت و بربادی ان کا انجام نہ ہوتا۔