سورة ص - آیت 65

قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنذِرٌ ۖ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اے نبی ان سے فرمادیں کہ میں تو بس خبردار کردینے والاہوں ” اللہ“ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے اکیلا ہے اور سب پر غالب ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(28) انبیائے کرام کے واقعات اور کچھ جنت و جہنم کے احوال بیان کرنے کے بعد، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ مشرکین قریش کو ایک ایسی بات کہیں جس میں ان کے لئے ان کے کفر و شرک پر دھمکی کے ساتھ توحید فی العبادۃ کی دعوت بھی ہو، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے نبی ! آپ کفار قریش سے کہہ دیجیے کہ میں اللہ کے عذاب سے ہر اس شخص کو ڈرانے والا ہوں جو کفر کی راہ اختیار کرے گا اور اللہ کے بجائے شیطان کی عبادت کرے گا اور ان سے آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو اپنی ذات و صفات اور ربوبیت و عبادت میں تنہا اور لاشریک ہے اور اپنی تمام مخلوقات پر قاہر و غالب ہے اور آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک اور ان میں بلا شرکت غیرے تصرف کرنے والا ہے اور جب نافرمانوں کو سزا دیتا ہے تو کؤی اسے مغلوب نہیں کرسکتا اور ہر اس شخص کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے جو صدق دل سے اس کے حضور توبہ کرتا ہے۔