سورة الصافات - آیت 164

وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک متعیّن مقام ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(36) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی زبانی ان کی عبودیت کے اعتراف کو بیان کیا ہے اور اس سے مقصود ان لوگوں کی تردید ہے جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ فرشتے خود اپنی زبان سے اللہ کے لئے اپنی عبودیت کا اعتراف کرتے ہیں، پھر وہ معبود کیسے ہو سکتے ہیں۔ یہ قول جبرئیل (علیہ السلام) اور دیگر فرشتوں کا ہے جو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا اور جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی زبان میں بیان کیا ہے کہ طاعت و بندگی اور احکام الٰہی کی بجا آوری میں ہم میں سے ہر فرشتے کی ایک حد مقرر ہے۔ جس سے وہ تجاوز نہیں کرسکتا ہے اور ہم تمام فرشتے اللہ کے حضور صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور ہر وقت اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں۔ صحیح مسلم میں حذیفہ (رض) سے مروی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” ہمیں دوسروں پر تین باتوں کے ذریعہ فضیلت دی گئی ہے : ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند ہیں، زمین ہمارے لئے مسجد بنا دی گئی ہے اور اس کی مٹی ہمارے لئے پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔ “