سورة الصافات - آیت 158

وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

انہوں نے اللہ اور جِنّوں کے درمیان رشتہ داری بنا رکھی ہے۔ حالانکہ جِنّخوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ مجرم کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(34) آیت (٩٤١) میں کفار عرب کی جس بات کی تردید کی گئی ہے اور جس پر ان کی زجر و توبیخ کی گئی ہے، اسی کا یہاں صراحت کے ساتھ انکار کیا گیا ہے کہ وہ لوگ اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ ازدواج بتاتے ہیں حالانکہ شیاطین الجن جانتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا اگر اللہ سے ان کا رشتہ ہوتا تو وہ انہیں آگ کا عذاب کیسے دیتا، رشتہ داری کا تو تقاضا تھا کہ اللہ انہیں عذاب نہ دیتا معلوم ہوا ہے کہ اللہ کے بارے میں یہ بدترین جھوٹ ہے بہت سے مفسرین نے یہاں ” الجنۃ“ سے مراد فرشتے لئے ہیں اور آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ کفار عرب اللہ اور فرشتوں کے درمیان رشتہ بتاتے ہیں۔ یہ بات اللہ کے خلاف افترا پردازی ہے۔ فرشتے بھی جانتے ہیں کہ جو کفار ایسی بات کہتے ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ آیت (٩٥١) میں اللہ تعالیٰ نے نے مذکورہ بالا افتراپردازی سے اپنی پاکی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی ذات ولادت و نسب جیسے عیب و نقص سے پاک ہے۔ آیت (٠٦١) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے مخلص بندے اپنے رب کی طرف اس قسم کے عیوب و نقائص کو منسوب نہیں کرتے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ اہل ایمان جن جہنم میں داخل نہیں کئے جائیں گے اس تفسیر کے مطابق (الاعباد اللہ امخلصین) کا تعلق (انھم المحضرون) سے ہوگا یعنی اہل ایمان جنوں کے سوا دوسرے شیاطین الجن جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے۔