سورة آل عمران - آیت 96

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ مکہ میں ہے جو تمام دنیا کے لیے برکت و ہدایت والا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

69۔ یہود کے ایک نئے جدال کی تردید ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس لوگوں کا پہلا قبلہ ہے۔ اور خانہ کعبہ سے افضل ہے، اس لیے کہ وہ ارض مقدس میں واقع ہے، اور بہت سے انبیاء کرام ہجرت کر کے یہاں آتے رہے ہیں، پھر محمد نے اسے چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ کیسے بنا لی؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کی، اور کہا کہ سرزمین پر اللہ کا پہلا گھر خانہ کعبہ ہے، اور جب تک دنیا رہے گی، وہ گھر متبرک اور انسان کی ہدایت کا ذریعہ رہے گا، لوگ دنیا کے چپے چپے سے کھچ کر یہاں حج و زیارت کے لیے آتے رہیں گے، اور جب تک دنیا رہے گی اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہیں گے اور اللہ کو یاد کرتے رہیں گے۔ صحیحین میں ابو ذر (رض) کی روایت ہے، میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! روئے زمین پر کون سی مسجد پہلے بنائی گئی ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسجد حرام، میں نے پوچھا، پھر کون؟ تو آپ نے مسجد اقصی، میں نے پوچھا : دونوں کے درمیان کتنی مدت کا فاصلہ تھا؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا چالیس سال، علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کو بنایا، اس کے چالیس سال کے بعد یعقوب بن اسحاق علیہما السلام نے مسجد اقصی کو بنایا۔ آیت میں ایات بینات (کھلی نشانیاں) سے مراد مقامِ ابراہیم ہے، یعنی وہ پتھر جس پر پاؤں رکھ کر ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کی دیوار بنائی اور جس پر اللہ کے حکم سے ان کے دونوں قدموں کے نشان بن گئے (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ بقرہ آیت (125) کی تفسیر)۔ اسی طرح صفا و مروہ، زمزم کا پانی، خانہ کعبہ کا زمانہ جاہلیت سے گہوارہ امن ہونا اور دیگر تمام مشاعر حج مراد ہیں۔ صحیحین کی روایت ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ اس شہر کو اللہ نے اس دن سے (بلد حرام) بنا دیا ہے، جس دن آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور یہ قیامت تک بلد حرام رہے گا۔ جمہور علماء نے وللہ علی الناس حج البیت سے حج کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ حج سن بلوغ کو پہنچ جانے کے بعد زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے، جیسا کہ ابوہریرہ (رض) کی حدیث سے ثابت ہے، جسے امام احمد اور مسلم نے روایت کی ہے، کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ نے تمہارے اوپر حج فرض کیا ہے، اس لیے تم لوگ حج کرو۔ اور حج صاحب استطاعت پر فرض ہے۔ حاکم نے انس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ اس آیت کریمہ میں (سبیل) سے کیا مراد ہےِ، تو آپ نے فرمایا : راستے کا خرچ اور سواری، حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط کے مطاب صحیح ہے۔ ومن کفر فان اللہ غنی عن العالمین میں کفر سے مراد یا تو فریضہ حج کا انکار ہے، یا اس کی عدم ادائیگی، ترمذی نے حضرت علی (رض) سے روایت کی ہے کہ جو شخص سفر کا خرچ اور سواری ہونے کے باوجود حج نہیں کرے گا، تو وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہودی یا نصرانی ہو کر مرے، اگرچہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن قرآن کریم کی اس آیت اور دیگر احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔