سورة يس - آیت 51

وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ الْأَجْدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پھر ایک صور پھونکا جائے گا اور یکایک لوگ تیزی سے دوڑتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

26 جب دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سارے لوگ دوبارہ زندہ ہو کر میدان محشر کی طرف دوڑ پڑیں گے بخاری و مسلم کی ابوہریرہ (رض) سے مروی حدیث کے مطابق دونوں صوروں کے درمیان چالیس سال کا زمانہ ہوگا اور جو لوگ دنیا میں قیامت اور بعث بعدالموت پر یقین نہیں رکھتے تھے جب اپنے آپ کو دوبارہ زندہ پائیں گے اور جس عذاب کی تکذیب کرتے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو شدت ہول سے خبط الحواس ہوجائیں گے اور مارے دہشت کے کہیں گے کہ اے ہماری بدنصیبی ! ہمیں ہماری قبروں سے کس نے نکالا ہے کہ جہنم جیسا خطرناک اور ہیبت ناک عذاب ہماری آنکھوں کے سامنے ہے؟! تو ان سے مومنین یا فرشتے کہیں گے کہ یہ تو وہی دن ہے جس کا اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا اور جس کی خبر تمہیں اس کے سچے رسولوں نے دی تھی، اور جسے تم جھٹلاتے تھے۔