سورة يس - آیت 45

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّقُوا مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَمَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے۔ شاید کہ تم پر رحم کیا جائے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

24 مشرکین کا حال بیان کیا جا رہا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ جن آفات و بلیات کے درمیان گھرے ہوئے ہو اور جو مصائب و آلام مستقبل میں تم پر آنے والے ہیں، ان سے ڈرتے ہوئے ایمان لے آؤ تو وہ لوگ منہ پھیر کر چل دیتے ہیں۔ آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ گزشتہ زمانوں میں جن قوموں نے رسولوں کی تکذیب کی اور جس کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا، اسی جیسے عذاب سے تم لوگ بھی ڈرتے رہو، اور آخرت کے عذاب سے بھی ڈرتے رہو، تو مشرکین اس دھمکی کی کوئی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ آیت ٦٤ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین کا ہمیشہ سے یہ وطریہ رہا ہے کہ جب بھی ان کے رب کی طرف سے رسولوں کی صداقت کی دلیل آئی تو انہوں نے اس کی تکذیب کردی اور ایمان لانے سے انکار کردیا، مشرکین مکہ کا بھی یہی حال ہے کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور دعوت توحید کی صداقت کی ہر دلیل کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اپنے کفر و شرک پر ایسے ڈٹے ہوئے ہیں کہ گویا انکے دل پتھر کے بنے ہیں، ان میں خیر کی کوئی بات داخل ہی نہیں ہوتی ہے۔