سورة يس - آیت 41

وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ان کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کر دیا

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

21 اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس نے سمندروں کو اس قابل بنایا ہے کہ ان میں مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتیاں تیرتی ہوئی ایک شہر سے دوسرے شہر جاتی رہتی ہیں۔ پہلی کشتی نوح (علیہ السلام) کی کشتی تھی جس میں انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنے مومن پیروکاروں کو اور اس وقت سر زمین پر پائے جانے والے تمام حیوانات کو سوار کرلیا تھا اور طوفان کی زد سے ان کے سوا کوئی نہیں بچا تھا۔