سورة سبأ - آیت 28

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور اے نبی ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

24 عقیدہ توحید بیان کرنے کے بعد اب عقیدہ رسالت بیان کیا جا رہا ہے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام بنی نوع انسان کے لئے رسول بنا کر بھیجا تھا، تاکہ آپ ان پر ایمان لانے والوں اور ان کی اطاعت کرنے والوں کو جنت کی بشارت دیں اور ان کی نافرمانی کرنے والوں کو جہنم کی آگ سے ڈرائیں۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایک تلخ حقیقت کی خبر دی ہے جس سے مقصود آپ کو تسلی دینی ہے کہ اکثر لوگ رسولوں کی اہمیت اور ان کی دعوت کی افادیت سے ناواقف ہوتے ہیں، اسی لئے ان کی بتائی راہ چھوڑ کر کفر و ضلالت کی راہ اختیار کرتے ہیں، جیسا کہ کفار مکہ کا حال ہے کہ وہ کفر و شرک پر مصر ہیں اور آپ کے مقام نبوت سے بے خبر ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انسانوں کے لئے رسول تھے، اس عقیدے کو قرآن کریم کی کئی دوسری آیتوں میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ الاعراف آیت 158 میں آیا ہے : (قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً) ” آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں“ اور سورۃ الفقران آیت (١) میں ہے : (تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیراً) ” بہت ہی بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا، تاکہ وہ تمام لوگوں کے لئے آگاہ کرنے والے بن جائیں۔“ اور بخاری و مسلم نے جابر (رض) سے ایک حدیث روایت کی ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے :” ہر نبی اپنی قوم کے لئے بھیجا جاتا تھا اور میں تمام انسانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں“ اور صحیح مسلم میں جابر (رض) سے ہی مروی ایک دوسری حدیث ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” میں کالے اور گورے سب کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ “