سورة الأحزاب - آیت 28

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیں، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے کر اچھے طریقے سے رخصت کرتا ہوں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٤) مفسرین لکھتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں نے دیکھا کہ انصار و مہاجرین کی بیویاں دنیاوی اعتبار سے ان سے اچھی حالت میں ہیں تو انہوں نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے اخراجات میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت ان کی تعداد نو (٩) تھی، عائشہ، حفصہ، ام حبیبیہ، سودہ، ام سلمہ، زینب بنت حجش، میمونہ، جویریہ، اور صفیہ ان کی بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک عائشہ نے پہنچائی، آپ چونکہ مالی طور پر اس کی قدرت نہیں رکھتے تھے، اس لئے آپ کو اس سے تکلیف ہوئی، اور اپنی تمامبیویوں سے ایک ماہ کے لئے الگ ہوگئے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے حکم کے مطابق ان سب کو اختیار دے دیا، اور اس کی ابتداء عائشہ (رض) سے کی اور ان سے کہا کہ وہ اپنے باپ ماں سے مشورہ کرنے سے پہلے کوئی فیصلہ نہ کریں تو عائشہ (رض) نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کے بارے میں میں ان سے مشورہ کروں؟ اور انہوں نے اللہ اس کے رسول اور آخرت کی راحت و نعمت کو اختیار کرلیا، دیگر امہات المومنین نے بھی ایسا ہی کیا اور سب ن اللہ اس کے رسول اور آخرت کی خوشیوں کو دنیا کی راحتوں پر ترجیح دی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی اس اچھی نیت اور عمل صالح کا یہ بدل دیا کہ اس سورت کی آیت (٢٥) نازل فرمائی : (لایحل للک النساء من بعدولا ان تبدل بھمن من ازواج ولواعجبک حسنھن الا ماملکت یمبنک وکان اللہ علی کل شی رقیباً) ” اس کے بعد اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ درست ہے کہ ان کے بدلے دوسری عورتوں سے نکاح کیجیے اگرچہ ان کی صورت اچھی لگتی ہو سوائے ان عورتوں کے جو آپ کی مملوکہ ہوں، ان سے آپ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اللہ ہر چیز کا پورا نگہبان ہے۔ “ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے میرے نبی ! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تمہیں دنیا کا عیش و آرام چاہئے، اچھا کھانا پینا، عمدہ کپڑے، زیورات اور دیگر سامان عیش چاہئے تو آؤ تمہیں طلاق دے دوں اور مطلقہ عورتوں کو ہر آدمی کے حسب حال جو مال و متاع دینا چاہئے وہ دے کر تمہیں آزاد کر دوں اور اگر تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور جنت چاہئے تو پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں اس یقین کے ساتھ زندگی گذارو کہ اللہ نے تم میں سے بھلائی کرنے والیوں کے لئے جنت میں میری معیت میں بہت ہی اونچا مقام تیار کر رکھا ہے۔