سورة لقمان - آیت 13

وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

یاد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا حقیقت یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(7) لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا، اے میرے بیٹے ! کسی کو اللہ کا ساجھی نہ بناؤ، کیونکہ شرک باللہ ظلم عظیم ہے، اللہ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ جب تک زندہ رہے صرف اسی کی عبادت کرے اس لئے اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوگا کہ بندہ اپنے خالق کی مرضی کی مخالفت کرتے ہوئے غیروں کے سامنے سجدہ کرے، ہاتھ پھیلائے، مرادیں مانگے اور اپنی جھولیاں پھیلائے۔ امام بخاری نے عبد اللہ بن معسود (رض) سے روایت کی ہے کہ جب سورۃ الانعام کی آیت کریمہ (82) (الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم) نازل ہوئی، تو صحابہ کرام پر بڑا شاق گذرا، اور کہنے لگے کہ ہم میں سے کس نے اپنے آپ پر ظلم نہیں کیا ہے؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ظلم کا وہ معنی نہیں ہے جو تم سمجھتے ہو، ظلم سے مراد وہ ہے جو لقمان نے اپنے بیٹے کو بتایا تھا کہ اے میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے۔