سورة لقمان - آیت 2

تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢) اس آیت کریمہ کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں قرآن کریم کی عظمت و اہمیت بیٹھا نے کی کوشش کی گئی ہے۔” تلک“ سے اشارہ قرآن کریم کی آیتوں کی طرف کیا گیا ہے اور علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ اشارہ قریب کے بجائے اشارہ بعید استعملا کرنے سے مقصود قرآن کریم کی عظمت کا اظہار ہے۔ اور یہ کتاب عظیم نیک عمل کرنے والوں کے لئے ذریعہ ہدایت اور باعث رحمت ہے۔ مفسرین نے یہاں ” محسن“ کے دو معنی بیان کئے ہیں : ایک محض نیک عمل کرنے والا اور دوسرا وہ شخص جو اپنے رب کی عبادت اس طور پر کرتا ہے جسے حدیث جبرئیل میں ” احسان“ کی تعریف میں بیان کیا گیا ہے کہ بندہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ آیت (٤) میں ان عمل صالح کرنے والوں کی تین خصوصی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، مفسرین لکھتے ہیں کہ اس سے مقصود ان تینوں صفات کی اہمیت و عظمت بیان کرنی ہے۔ یعنی ان تینوں صفات کے بغیر صفت احسان کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اور آیت (٥) میں ان صفات والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ یہی لوگ درحقیقت اپنے رب کے صحیح راستے پر ہیں اور یہی جہنم سے نجات پا کر جنت کے حقدار بنیں گے۔