سورة الروم - آیت 55

وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور جب قیامت برپا ہوگی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں، اسی طرح وہ دھوکا کھایا کرتے تھے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(36) قیامت کے دن کفر و شرک اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والے مجرمین قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے تھے۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ وہ لوگ جھوٹ بولیں گے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح وہ لوگ دنیا میں اتباع دین حق سے محروم کردیئے گئے تھے، اسی طرح انہیں میدان محشر میں سچی بات زمانے پر لانے کی توفیق نہیں ہوگی۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ کفار میدان محشر میں اللہ کی قسم کھا کر یہ بات اس لئے کہیں گے تاکہ ان کے خلاف حجت نہ قائم ہو، گویا وہ یہ کہنا چاہیں گے کہ انہیں تو صرفت عمل ملی ہی نہیں تھی اس لئے انہیں معذور جانا جائے۔