سورة العنكبوت - آیت 8

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے اگر وہ مجبور کریں کہ تو میرے ساتھ شریک ٹھہرائے جسے تو نہیں جانتا۔ تو ان کی اطاعت نہیں کرنا۔ میری طرف ہی تم نے پلٹ کر آنا ہے میں تمہیں بتاؤں گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥) امام احمد، مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ترمذی وغیرہم نے روایت کیا ہے کہ یہ آیت سعد بن ابی وقاص زہری کے بارے میں نازل ہوئی تھی وہ نوجوان صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے ابتدائے شباب میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا اس وقت ان کی عمر سترہ یا اٹھارہ سال تھی جب ان کی ماں حمنہ بنت سفیان بن امیہ کو معلوم ہوا کہ تو انہوں نے قسم کھالی جب تک وہ اسلام سے پھر نہیں جائیں گے وہ کھانا نہیں کھائیں گی، سعد نے جب ان کی یہ حالت دیکھی تو کہا کہ اگر آپ کے پاس سوروحین ہوتیں اور ایک ایک کرکے سب نکل جائیں تو بھی میں اپنا دین نہیں چھوڑتا آپ چاہے کھائیے یانہ کھائیے ان کی ماں یہ بات سن کرکفر کی طرف ان کے لوٹنے سے ناامید ہوگئیں بالآخر اسلام لے آئیں اور کھانے پینے لگیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی واقعہ کی مناسبت سے یہاں فرمایا ہے ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی سخت تاکید ہے اس کے باوجود اگر دونوں اسے اللہ کے ساتھ شرک کرنے پر مجبور کریں، تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی جیسا کہ سعد بن ابی وقاص نے نہیں مانی تھی آیت کے آخر میں اللہ نے فرمایا کہ سب کواسی کے پاس لوٹ کرجانا ہے اور وہ سب کا حساب لے گا اور ان کے اعمال کا بدلہ دے گا اس لیے اس کی اطاعت والدین کی اطاعت پر مقدم ہے۔