سورة القصص - آیت 44

وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس وقت آپ مغربی کنارے میں موجود نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ کو فرمان شریعت عطا کیا اور نہ آپ شاہدین میں شامل تھے۔“ (٤٤)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢) مندرجہ ذیل تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بیان کی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے رسول اور قرآن کریم اس کی نازل کردہ کتاب ہے اس لیے کہ موسیٰ (علیہ السلام)، اہل مدین اور قوم فرعون کے جو واقعات اوپر بیان کیے گئے ہیں ان کا علم یا تو مشاہدہ سے حاصل ہوسکتا تھا یاتاریخ کی ورق گردانی سے اور نبی کریم کو یہ دونوں ہی باتیں حاصل نہیں تھیں نہ سیکڑوں سال پہلے وقوع پذیر ہونے والے ان واقعات کے وقت آپ موجود تھے اور نہ آپ پڑھنا جانتے تھے کہ تاریخ کی کتابوں سے حاصل کرلیتے اس لیے ثابت ہوا کہ آپ کو یہ باتیں اللہ نے بذریعہ وحی بتلائیں ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ کوہ طور کے اس مغربی علاقہ یا مغربی وادی میں آپ موجود نہیں تھے جہاں اللہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ہم کلام ہوا تھا اور انہیں نبی مرسل ہونے کی خبر دی تھی اس کے باوجود اس واقعہ کی صحیح خبر دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ آیتیں آپ پر اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔ موسیٰ کے بعد بہت سی قومیں پیدا ہوئیں اس طویل مدت میں وحی الہی کاسلسلہ منقطع رہالوگ اللہ سے کیے گے عہد کو بھول گئے اور راہ ہدایت کے آثار مٹ گئے اور گمراہی عام ہوگئی تو بنی نوع انسان پر اللہ کی رحمت کا تقاضا ہوا کہ آپ کو نبی بنا کربھیجا جائے تاکہ انہیں کفر وشرک کی تاریکیوں سے نکال کر یمان ویقین کی راہ دکھائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین جانا وہاں دس سال تک قیام کرنا اور شعیب کی بیٹی سے ان کی شادی، یہ سارے واقعات جب رو نما ہوئے اس وقت رسول اللہ وہاں موجود نہیں تھے پھر یہ باتیں انہیں کیسے معلوم ہوئیں، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان واقعات سے متعلق آیتیں نازل کیں، جن کے ذریعہ سے آپ کو ان کا علم ہوا، اگر آپ نبی نہ ہوتے تو یہ باتیں معلوم نہیں ہوتیں، کوہ طور کے پاس جب اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) سے ہم کلامہوا اور انہیں ان کے نبی مرسل ہونے کی خبر دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی ہارون کے ساتھ فرعون کے پاس توحید کا پیغام لے کرجائیں اس وقت رسول اللہ وہاں موجود نہ تھے اگر وہ نبی نہ ہوتے تو یہ باتیں انہیں کیسے معلوم ہوتیں۔ اسی لیے آیت ٤٦ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ باتیں آپ کو اس طرح معلوم ہوئیں کہ ہم نے بنی نوع انسان پر رحم کرتے ہوئے آپ کو اپنا رسول بناکربھیجا اور آپ پر قرآن نازل کیا جس میں مذکورہ بالا خبریں ہیں اور ان کے علاوہ دوسری بہت سی خبریں ہیں تاکہ اس کی آیتیں پڑھ کر آپ اہل مکہ اور تمام عربوں کو اللہ کے عذاب وعقاب سے ڈرائیں۔