سورة القصص - آیت 7

وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي ۖ إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” ہم نے موسیٰ کی والدہ کو وحی کی کہ وہ موسیٰ کو دودھ پلائے۔ جب تجھے موسیٰ کی جان کا خطرہ محسوس ہو تو اسے دریا میں ڈال دے۔ خوف اور غم نہ کر ہم موسیٰ تیرے پاس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل فرمایں گے۔“ (٧)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦) چونکہ فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کروا دیتا تھا تاکہ وہ بچہ زندہ نہ رہے جس کے ہاتھوں میں اس کی حکومت کو ختم ہونا تاھ اسی لیے موسیٰ جب پیدا ہوئے تو ان کی ماں بہت پریشان ہوئی للہ نے انہیں بذریعہ فرشتہ اطمینان دلایا کہ اس کی حفاظت اللہ کرے گا اس لیے وہ بچے کو دودھ پلاتی رہیں اور جس دن وہ سمجھ لیں کہ اب فرعون کے جاسوسوں کو ان کے گھر میں لڑکا ہونے کی اطلاع ہوجائے گی تو اسے بے خوف وخطرے دریائے نیل میں ڈال دیں اور ان کے بارے میں نہ ڈریں اور نہ پریشان ہوں اللہ قادر مطلق ان کا بچہ ان کے پاس پھر پہنچا دے گا اور انہیں یہ خوشخبری سنا دی کہ ان کا وہ بچہ بڑا ہو کر نبی مرسل ہوگا، چنانچہ ایسا ہی ہوا موسیٰ کی ماں نے انہیں ایک مضبوط محفوظ ٹوکرے میں ڈال کر دریا میں ڈال دیا۔