سورة القصص - آیت 5

وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور ہم نے ارادہ کیا کہ ان لوگوں پر مہربانی کریں جو زمین میں کمزور کر دئیے گئے تھے۔ انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں ملک کا وارث بنادیں۔ (٥)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥) آخر کار اللہ کی رحمت جوش میں آئی اسے اپنے ان ناتواں بندوں پر رحم آیا جو اس کے خلیل ابراہیم کی نسل سے تھے انہیں فرعون کی غلامی سے آزاد کرکے ایمان جیسی عظیم ترین نعمت سے نوازنا چاہا اور فرعون اور اس کے لشکر کو ہلاک کرکے انہیں سرزمین مصر کا وارث وحاکم بنانا چاہا جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف میں آیت ١٣٧ میں فرمایا (واورثنا الارض القوم۔۔۔ تا۔۔ وماکانو یعرشون) ہم نے ان لوگوں کو جو بالکل کمزور شمار کیے جاتے تھے اس سرزمین کے مشرق ومغرب کا مالک بنادیاجس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور آپ کے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوگا یا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے ساختہ پرداختہ کارخانوں کو اور جو کچھ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنواتے تھے سب کو درہم برہم کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون، ہامان، اور ان دونوں کی فوجوں کو وہ کچھ دکھانا چاہا جس کے خوف سے وہ لوگ اسرائیلی بچوں کو قتل کروارہے تھے یعنی انہیں اپنی ہلاکت وبربادی کانظارہ اپنی آنکھوں سے کرنا تھا یہ سب کچھ کیسے ہوا آئندہ آیتوں میں اللہ نے اسے بیان فرمایا ہے۔