سورة النمل - آیت 88

وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ۚ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ ۚ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” آپ پہاڑوں کو دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ خوب جمے ہوئے ہیں مگر قیامت کے دن یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ بنایا ہے وہ خوب جانتا ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔“ (٨٨)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٥) نبی کریم کو مخاطب کر کے کہا جارہا ہے کہ نفخ صور کے بعد پہاڑ بظاہر اپنی جگہ پر جامد ہوں گے، لیکن وہ بادلوں کی سی تیزی کے ساتھ چل رہے ہوں گے، اکثر مفسرین نے اس آیت کی یہی تفسیر بیان کی ہے کہ ایسا قیامت کے دن اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ پوری کائنات کو ہلاک کردے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الطور آیت (١٠) میں فرمایا ہے : (وتسیر الجبال سیرا) اور سورۃ الکہف آیت (٤٧) میں فرمایا ہے : (ویون نسیر الجبال) دونوں آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو بہت تیزی کے ساتھ چلائے گا اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی وجہ سے ہوگا جس نے ہر چیز کو ایک مخصوص حکمت کے مطابق پیدا کیا ہے، اور جو بندوں کے تمام اچھے اور برے اعمال سے باخبر ہے، اور قیامت کے دن انہیں ان کا بدلہ دے گا۔ اسی مفہوم کی مزید تاکید کے طور پر آیات (٨٩، ٩٠) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں جو ایمان و عمل کی زندگی گزارے گا اس دن اسے کوئی خوف و ہراس لاحق نہیں ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اسے جنت عطا کرے گا، اور جو لوگ شرک و معاصی کے مرتکب ہوں گے انہیں ان کے منہ کے بل جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ پھر بندوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ اس دن جو کچھ ہوگا تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوگا، کسی پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا۔