سورة النمل - آیت 59

قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَىٰ ۗ آللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے نبی فرما دیں کہ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں اور ” اللہ“ کے ان بندوں پر سلام ہو جنہیں اس نے منتخب فرما لیا۔ اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں وہ اس کا شریک بنارہے ہیں۔“ (٥٩)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

21۔ مجرموں کی ہلاکت اور مومنوں کی نجات کی خبر دینے کے بعد، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ اس نعمت پر اپنے رب کا شکر ادا کریں، اور امت محمدیہ کو تعلیم دی ہے کہ جب بھی انہیں اللہ کی کوئی نعمت حاصل ہو تو وہ اپنے رب کا شکر بجا لائیں جس نے اپنے فضل سے انہیں وہ نعمت دی ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت کو یہ تعلیم دی ہے کہ دعوت کے میدان میں جب سامعین کے سامنے کوئی تقریر کرنی چاہیں یا کوئی تحریر پیش کریں تو اللہ کی برکت حاصل کرنے کے لیے اس کا آغاز اللہ کی حمد و ثنا اور انبیائے کرام جو اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں ان پر درود و سلام سے کریں۔ اسی لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے سے ہر دور میں علماء خطباء اور واعظین کا یہی طریقہ رہا ہے۔ نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ اللہ کی حمد و ثنا اور انبیائے کرام پر درود و سلام کے بعد، مشرکین مکہ سے پوچھیں کہ اللہ بہتر ہے، یا وہ معبودان باطل جنہیں وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں، ظاہر ہے کہ ان معبودانِ باطل میں کوئی خیر نہیں ہے، اور یہ بات کفار مکہ کو معلوم ہے، اور پھر بھی وہ انہی کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ کیسی بے عقلی، کیسی جہالت اور کیسی نفس پرستی ہے؟ یہ جانتے ہوئے کہ ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے، پھر بھی انہیں اپنا معبود مانتے ہیں، ان پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں، اور ان کے سامنے سر ٹیکتے ہیں۔ فللہ الحمد علی نعمۃ التوحید۔