سورة الشعراء - آیت 224

وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” شعراء کے پیچھے تو گمراہ لوگ چلا کرتے ہیں۔ (٢٢٤)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

59۔ بعض مشرکینِ مکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر کہتے تھے۔ ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ جس طرح شیاطین اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مزاج میں منافات ہے، شیاطین ان کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے ہیں، اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شاعر ہونا بھی عقلی طور پر ناممکن ہے، اسلیے کہ ان کے اور عام شاعروں کے مزاج میں شدید منافاقت ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق پسند، حق پرست، صاداق و امین اور پاکیزہ نفس و پاکیزہ نظر ہیں، جھوٹ مبالغہ آرائی، افترا پردازی اور لغو اور فحاشی سے ہزاروں کوس دور ہیں، جبکہ شعراء کا حال یہ ہے کہ ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو جادہ حق سے دور ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ خیالات کی دنیا میں بھٹکتے ہیں، جھوٹ بولے بغیر ان کی شاعری مکمل نہیں ہوتی، لوگوں کی عزتوں پر حملے کرنا، پاکدامن عورتوں سے اظہار عشق، امرد پرستی، سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کوسچ ثابت کرنا، لوگوں کو گناہ پر ابھارنا، بے کیے اچھے اعمال کی اپنی طرف نسبت کرنا، اور اسی قسم کی جتنی غلط باتیں ہوسکتی ہیں، ان کی شاعری کا موضوع ہوتی ہیں۔ اس لیے ثابت ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شاعر نہیں ہیں، اور ان کے لیے شاعر ہونا ہرگز مناسب نہیں ہے، وہ تو اللہ کے نبی اور رسول ہیں، تمام برے اوصاف سے پاک اور تمام اچھے اوصاف اور محاسن اخلاق کے ساتھ متصف ہیں۔