سورة الشعراء - آیت 165

أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” کیا تم دنیاکی مخلوق میں سے مردوں کے ساتھ بدکاری کرتے ہو۔ (١٦٥)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

43۔ لوط (علیہ السلام) نے سدوم اور عموریہ والوں کو پہلے تو ان کے شرک و معاصی کی وجہ سے عذاب سے ڈرایا، اپنی اطاعت و اتباع کی دعوت دی، اور اپنے بے لوث جذبہ اصلاح کی وضاحت کی کہ انہیں کسی مادی منفعت کی لالچ نہیں ہے۔ اس کے بعد انہیں ان کے نہایت گھناؤنے گناہ (لواطت) کا عار دلایا اور کہا کہ تم انسانیت سے کتنے نیچے گر گئے ہو اور حیوانی شہوت نے کسی طرح تمہاری عقلوں پر پردہ ڈال دیا ہے کہ مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو، اور اللہ نے تمہارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان میں تمہارے اندر کوئی رغبت باقی نہیں رہی ہے۔ تمہاری فطرت مسخ ہوگئی ہے اور حق و باطل اور حلال و حرام کے درمیان پائے جانے والے تمام حدوں کو تم پھلانگ گئے ہو۔