سورة الشعراء - آیت 157

فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا نَادِمِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

لیکن انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں اور آخرکار پچھتائے۔ (١٥٧)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

41۔ قوم ثمود نے صالح (علیہ السلام) کی بات نہیں مانی، ان کو جھٹلا دیا، اور ان کی نافرمانی کرتے ہوئے پہلے اونٹنی کے پاؤں کاٹ دئیے اور جب بیٹھ گئی تو اسے ہلاک کردیا، تب صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ اب تمہاری ہلاکت و بربادی یقینی ہوگئی، تین دن تک اپنے گھروں میں مزے کرلو، یہ سن کر اور عذاب کے آثار دیکھ کر لوگ اپنی ندامت کا اظہار کرنے لگے، لیکن ایسی ندامت کا اب کوئی فائدہ نہیں تھا۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ انہوں نے نے اونٹنی کو بدھ کے دن ہلاک کیا تھا، اس کے بعد فوراً ہی ان کے چہرے زرد ہوگئے، پھر جمعرات کے دن سرخ ہوگئے، اور پھر جمعہ کے دن کالے ہوگئے، مقاتل کے قول کے مطابق ان کے جسموں پر دانے نکل آئے جو پہلے دن سرخ تھے، پھر زرد ہوگئے، اور تیسرے دن کالے ہوگئے، اور سنیچر یا اتوار کے دن جب ان کی ہلاکت کا وقت جب ان کی ہلاکت کا وقت بالکل قریب ہوا تو وہ دانے پھوٹ پڑے، اور جبریل (علیہ السلام) نے ایک شدید چیخ ماری اور دونوں کے اثر سے سب کے سب مر گئے۔ آیت 158 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس واقعہ سے درس عبرت ملتا ہے، اور قوم ثمود کے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے۔ اور آیت 159 میں فرمایا کہ اے میرے نبی ! آپ کا رب ہر حال میں غالب ہے، اسی لیے اس نے ظالموں کو پکڑ لیا، اور وہ نہایت مہربان ہے، اسی لیے اس عذاب سے اس نے اپنے نیک بندوں کو بچا لیا۔