سورة الشعراء - آیت 111

قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” انہوں نے جواب دیا کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں حالانکہ تیری پیروی کرنے والے رذیل لوگ ہیں (١١١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

31۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے اس دعوتی خطبے کا یہ جواب دیا کہ ہم تم پر کیسے ایمان لے آئیں؟ اور کیسے تمہاری پیروی کریں اور حالت یہ ہے کہ تمہاری پیروی صرف گرے پڑے لوگ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک عزت و شرف کا معیار مال و جاہ تھا، نہ کہ بلند کردار اور اعلی اخلاق ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ مال و دولت والے دنیا داروں نے اللہ کے دین اور بلند اخلاق و کردار کی پرواہ نہ کی، اور غریبوں اور کمزوروں کو گھٹیا اور رذیل سمجھا، اور انہی کمزوروں نے آگے بڑھ کر اللہ کے دن کو گلے سے لگایا، اور اونچے کردار اور اچھے اخلاق کو مال و دولت پر ترجیح دی۔ تاریخ شاہد ہے کہ انبیاء کی پیروی کرنے والے زیادہ تر غریب اور کمزور لوگ ہوتے تھے اور دولت مند لوگ اپنے کبر و غرور کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے تھے، اور کہتے تھے کہ جس دین کی اتباع حقیر و فقیر لوگ کر رہے ہیں، وہ سچا اور برحق کیسے ہوسکتا ہے؟ نوح (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ مجھے لوگوں کے اعمال کو جاننے کا پابند نہیں بنایا گیا ہے کہ کون کیا کرتا ہے، کون مالدار ہے اور کون فقیر، اور کس کے دل میں کیا ہے، ان باتوں کا علم اللہ کو ہے، اور وہی اپنے بندوں کا حساب لے گا، مجھے تو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں کو بغیر کسی امتیاز کے اللہ کے دین کی طرف بلاؤں۔ اے میری قوم کو لوگو ! اگر تمہیں ان باتوں کا شعور ہوتا تو تم لوگوں کی صنعت و حرفت اور ان کی مالداری اور غریبی کو حق و باطل کے درمیان امتیاز کا معیار نہ سمجھتے۔ اور میں تمہاری یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ غریب مسلمان کو اپنے پاس سے بھگا دوں، میں تو تمہیں اللہ کے عذاب سے صرف کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔